Blog Post

Countrymedia Service > News > News > کراچی کا بزنس مین اغواء ڈی آئی جی پیر محمد شاہ فارغ

کراچی کا بزنس مین اغواء ڈی آئی جی پیر محمد شاہ فارغ

14 جنوری 2026 کی شام سات بجے حیدرآباد کی پولیس کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس امیر خسرو روڈ فیز 6 پہنچی ، متین سنز کے مالک دانش متین کو اغواء کیا اور حیدرآباد کی جانب روانہ ہو گئی ، بزنس مین طاقتور تھا ، اداروں میں ڈھونڈ مچی اور ہلچل مچ گئی ۔ سندھ پولیس کے اعلیٰ افسران سے رابطہ کیا گیا ، بزنس مین دانش متین کو واپس کراچی میں دفتر کے قریب چھوڑ دیا گیا ۔ اداروں نے معاملے کی انکوائری کی تو ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کا نام آیا جنہیں فوری طور پر عہدے سے ہٹا دیا گیا ، یہ 31 کروڑ روپے کی لین دین کا معاملہ تھا جس میں ڈی آئی جی پیر محمد شاہ کی جانب سے “پاور پریکٹس” کی گئی۔

تاجر دانش متین کے اغواء کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو کی جانب سے ایک ماہ بعد 16 جنوری 2026 کو ڈی آئی جی پیر محمد شاہ کے نام ایک خط لکھا گیا ، جس میں وضاحت مانگی گئی خط میں بتایا گیا کہ بزنس مین دانش متین کے خلاف مقدمہ نمبر 506/2025 حیدرآباد کے پولیس اسٹیشن اے سیکشن میں درج کیا گیا جس میں اسسٹنٹ سب انسپکٹر (اے ایس آئی) مرزا راشد بیگ نے اہم کردار ادا کیا ، مذکورہ ایف آئی آر آپ (ڈی آئی جی پیر محمد شاہ) کے حکم پر درج کی گئی اس مقدمے میں نیت کی خرابی ، اختیارات کا ناجائز استعمال جیسا عنصر ملتا ہے ، اس مقدمے کے حوالے سے آپ (پیر محمد شاہ) اپنی پوزیشن کو تین روز میں واضح کریں ، اگر آپ (پیر محمد شاہ) پوزیشن واضح نہیں کرتے یا خط کا جواب نہیں دیتے تو آپ (پیر محمد شاہ) کے خلاف ڈیپارٹمنٹل انکوائری کی جائے گی ۔ اس خط کا جواب آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو کو دیا گیا یا نہیں البتہ ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے ۔

کراچی کے بزنس مین دانش متین نے اپنی بازیابی کے بعد گزری تھانہ (کراچی) میں 365A اغواء کا مقدمہ درج کرایا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ وہ ڈی ایچ اے فیز 2 اپنے دفتر سے شام سات بجے گھر خیابان امیر خسرو فیز 6 جارہے تھے کہ ایک سفید رنگ کی گاڑی BEB 567 نے انہیں روکا ، تشدد کا نشانہ بنایا اور اغواء کرلیا ، میں نے ایک شخص امان کو شناخت کیا ہے جو میرا بزنس مخالف فیصل حمید کا سکیورٹی گارڈ ہے ، اس کے علاوہ پولیس کی وردی میں ملبوس اور ماسک لگائے کچھ لوگ بھی موجود تھے ان لوگوں نے مجھے (دانش متین) کو مارنے کی دھمکی دی ، 1 ملین روپے اور موبائل فون اور قیمتی گھڑی تحویل میں لے لی ، حمید اللہ اور نواز نے کسی کو ویڈیو کال کی جس نے کہا “دیکھ اب ہم تیرے ساتھ کیا کرتے ہیں” تم فیصل سے 31 کروڑ کا معاملہ ختم کرو ، اس کے علاوہ اغواء کاروں نے 30 ملین تاوان کی رقم کا مطالبہ کیا ، طاقتور بزنس کمیونٹی کی مداخلت سے رات 11 بجکر 40 منٹ پر مجھے دفتر کے قریب چھوڑ دیا گیا لہٰذا فیصل حمید ، نواز اور حمید اللہ کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے اور یہ مقدمہ اغواء برائے تاوان کی دفعات کے تحت درج کرلیا گیا جس کی انکوائری میں پولیس افسران کے نام کی بازگشت ہے یہ انکوائری ہوگی یا معاملہ خوش اسلوبی سے حل کرلیا جائے گا اس کا فیصلہ وقت اور حالات کریں گے

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے