Blog Post

Countrymedia Service > News > Diplomatic News > چین کی عالمی سفارتی سرگرمیاں تیز، یورپ، افریقہ اور امریکا کے ساتھ اہم پیش رفت

چین کی عالمی سفارتی سرگرمیاں تیز، یورپ، افریقہ اور امریکا کے ساتھ اہم پیش رفت

بیجنگ/برلن/ٹوکیو/واشنگٹن (بین الاقوامی ڈیسک)
چین نے حالیہ دنوں میں عالمی سطح پر اپنی سفارتی سرگرمیوں میں نمایاں تیزی دکھائی ہے، جہاں یورپ، افریقہ، جاپان اور امریکا کے ساتھ تعلقات کے مختلف پہلوؤں پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔

جرمنی کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری

جرمن چانسلر کی جانب سے چین کے ساتھ گہرے اسٹریٹجک تعلقات استوار کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد یورپ اور چین کے درمیان سفارتی و تجارتی روابط کو مزید مستحکم کرنا ہے۔ جرمنی نے امریکا کی جانب سے بڑھتے ہوئے تجارتی محصولات کو ایک بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے چین کے ساتھ اقتصادی تعاون بڑھانے پر زور دیا ہے، جسے یورپی معیشت کے استحکام کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

افریقی ممالک کے لیے صفر کسٹم ڈیوٹی

چین نے اعلان کیا ہے کہ یکم مئی 2026 سے وہ 53 افریقی ممالک سے درآمدات پر عائد کسٹم ڈیوٹیز ختم کر دے گا۔ اس فیصلے کو چین-افریقہ اقتصادی شراکت داری کو فروغ دینے کی جانب ایک بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے افریقی مصنوعات کو چینی منڈیوں تک بہتر رسائی حاصل ہو گی اور باہمی تجارت میں اضافہ متوقع ہے۔

جاپان کے ساتھ سفارتی کشیدگی

ادھر جاپان نے نگیاساکی کے قریب ایک چینی ماہی گیر کشتی کو تحویل میں لے کر اس کے کپتان کو گرفتار کر لیا، جس کے بعد بیجنگ اور ٹوکیو کے درمیان سفارتی تناؤ میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سمندری حدود اور ماہی گیری کے معاملات پہلے بھی حساس نوعیت کے رہے ہیں، اور تازہ واقعہ نے ایک بار پھر علاقائی کشیدگی کو نمایاں کر دیا ہے۔

چین-امریکہ تعلقات اور تائیوان کا معاملہ

چین نے امریکا پر زور دیا ہے کہ وہ تائیوان کے لیے مجوزہ بڑے دفاعی معاہدوں اور اسلحہ فروخت کو مؤخر کرے۔ بیجنگ کا مؤقف ہے کہ ایسے اقدامات خطے کے استحکام کو متاثر کر سکتے ہیں۔ تاہم دونوں ممالک کی قیادت اقتصادی اور تجارتی مذاکرات جاری رکھنے کی خواہاں ہے تاکہ دوطرفہ تعلقات میں توازن برقرار رکھا جا سکے۔ق

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے