راولپنڈی (خصوصی رپورٹ) — شہر میں بسنت کے نام پر ہونے والا خطرناک کھیل ایک بار پھر جان لیوا ثابت ہونے سے بچ گیا۔ ڈیوٹی مکمل کر کے گھر واپس جانے والے ٹریفک پولیس کے فرض شناس آفیسر راجہ اسرار احمد قاتل ڈور کا نشانہ بن گئے، تاہم معجزانہ طور پر ان کی جان بچ گئی۔
واقعہ خواجہ کارپوریشن فلائی اوور پر پیش آیا، جہاں آفیسر راجہ اسرار احمد موٹرسائیکل پر سفر کر رہے تھے۔ اچانک تیز دھار قاتل ڈور ان کے چہرے سے ٹکرا گئی، جس کے نتیجے میں ان کی ناک بری طرح کٹ گئی اور وہ شدید زخمی ہو گئے۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ منظر نہایت ہولناک تھا، اور زخمی آفیسر کو فوری طبی امداد کے لیے منتقل کیا گیا۔ خوش قسمتی سے آفیسر نے ہیلمٹ اور کالر پہن رکھا تھا، جس کی بدولت ان کی شہ رگ محفوظ رہی اور جان بچ گئی۔
یہ واقعہ ایک بار پھر بسنت کے دوران قاتل ڈور کے خلاف حکومتی اقدامات اور انتظامی دعووں پر سوالیہ نشان لگاتا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ہر سال قیمتی جانیں ضائع ہونے کے باوجود موثر پابندیاں اور حفاظتی اقدامات نہیں کیے جاتے۔
زخمی آفیسر راجہ اسرار احمد نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے جذباتی اپیل کی ہے کہ بسنت کے دوران قاتل ڈور کے استعمال کو روکا جائے، اور کہا:
"کیا کسی کی خوشی کسی کی زندگی سے زیادہ قیمتی ہے؟”
علاقہ مکینوں اور شہری حلقوں نے حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا:
خواجہ کارپوریشن فلائی اوور پر فوری طور پر سیفٹی وائرز نصب کیے جائیں
پتنگ بازی کو رہائشی علاقوں اور سڑکوں سے ہٹا کر مخصوص کھلے میدانوں تک محدود کیا جائے
قاتل ڈور بنانے، بیچنے اور استعمال کرنے والوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے
علاقے کے عوام نے ایم پی اے چوہدری عمران الیاس سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی جانوں کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کریں اور متعلقہ اداروں کو متحرک کریں۔
شہری اور اہل علاقہ زور دے رہے ہیں کہ بسنت کے نام پر ہونے والے اس خونی کھیل کو فوری طور پر روکا جائے، تاکہ کوئی اور والدین اپنے لختِ جگر کی زندگی سے محروم نہ ہوں۔