اسلام آباد (نامہ نگار) غوری ٹاؤن میں طلبہ کے درمیان ہونے والے ایک جھگڑے کے دوران خنجر کے وار سے ایک طالبعلم شدید زخمی ہو گیا، تاہم واقعے کے بعد تھانہ کورال پولیس کے کردار پر سنگین سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ متاثرہ طالبعلم کے اہلِ خانہ نے پولیس پر ملزمان سے مبینہ ملی بھگت کا الزام عائد کرتے ہوئے انصاف سے محرومی کی شکایت کی ہے۔
تفصیلات کے مطابق جھگڑے کے دوران نامعلوم ملزمان نے خنجر کے وار سے طالبعلم کو شدید زخمی کر دیا، جسے فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔ اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ واقعے کی اطلاع دینے کے باوجود پولیس نے نہ تو بروقت کارروائی کی اور نہ ہی ملزمان کے خلاف مؤثر قانونی اقدامات اٹھائے۔
زخمی طالبعلم کی بوڑھی والدہ انصاف کے حصول کے لیے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بار بار تھانے کے چکر لگانے کے باوجود مقدمہ درج کرنے اور ملزمان کو گرفتار کرنے میں تاخیر کی جا رہی ہے، جو پولیس کی مبینہ جانبداری کو ظاہر کرتی ہے۔
متاثرہ خاندان نے آئی جی اسلام آباد سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے، شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور ذمہ دار ملزمان کے ساتھ ساتھ مبینہ غفلت یا ملی بھگت میں ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف بھی سخت کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں۔