اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے رہائشی سیکٹر غوری ٹاؤن میں غیر قانونی گیس ایجنسیوں کا خطرناک کاروبار بے قابو ہوتا جا رہا ہے، جس کے باعث علاقہ مکین شدید خوف و ہراس کا شکار ہیں۔ ان ایجنسیوں میں گھریلو اور کمرشل گیس سلنڈروں کی غیر قانونی اور غیر محفوظ طریقوں سے ری فلنگ جاری ہے، جو کسی بھی وقت بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔
ذرائع اور مقامی عینی شاہدین کے مطابق غوری ٹاؤن کے مختلف سیکٹرز میں قائم متعدد گیس ری فلنگ یونٹس نہ صرف متعلقہ اداروں کی اجازت کے بغیر کام کر رہے ہیں بلکہ حفاظتی اصولوں کی سنگین خلاف ورزیاں بھی کی جا رہی ہیں۔ بعض مقامات پر سلنڈروں کے بالکل قریب آگ جلانے والے ہیٹر استعمال کیے جا رہے ہیں، جو کسی بھی لمحے جان لیوا دھماکے کا سبب بن سکتے ہیں۔
اہلِ علاقہ کے مطابق چند روز قبل شریف آباد کے علاقے میں واقع ایک غیر قانونی گیس ایجنسی پر سلنڈر پھٹنے کا افسوسناک واقعہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں زور دار دھماکہ ہوا۔ واقعے میں متعدد افراد شدید زخمی ہوئے جبکہ قریبی مکانات اور دکانوں کو بھی نقصان پہنچا۔ خوش قسمتی سے جانی نقصان سے بچاؤ ہو گیا، تاہم اس واقعے نے پورے علاقے میں خوف کی فضا قائم کر دی۔
تشویشناک امر یہ ہے کہ مذکورہ واقعے کے باوجود ضلعی انتظامیہ، سی ڈی اے اور دیگر متعلقہ اداروں کی جانب سے کوئی مؤثر کارروائی سامنے نہیں آ سکی۔ نہ تو غیر قانونی گیس ایجنسیوں کو سیل کیا گیا اور نہ ہی ذمہ دار افراد کے خلاف مقدمات درج کیے گئے، جس سے انتظامی غفلت اور لاپرواہی واضح طور پر عیاں ہے۔
علاقہ مکینوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ غوری ٹاؤن میں قائم تمام غیر قانونی گیس ری فلنگ یونٹس کے خلاف فوری اور بلاامتیاز کارروائی کی جائے، ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور کسی بڑے سانحے سے قبل حفاظتی اقدامات یقینی بنائے جائیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو کسی بھی وقت قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہو سکتا ہے، جس کی مکمل ذمہ داری متعلقہ اداروں پر عائد ہو گی۔ اہلِ علاقہ نے چیف کمشنر اسلام آباد، کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) اور آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) سے فوری نوٹس لینے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔