Blog Post

Countrymedia Service > News > Twin Cities Times > یونین کونسل 17 کورال میں کمرشل گاڑیوں سے ٹیکس وصولی پر سوالات اٹھ گئے

یونین کونسل 17 کورال میں کمرشل گاڑیوں سے ٹیکس وصولی پر سوالات اٹھ گئے

شہریوں کا اعتراض، 11 گنا جرمانے کی دھمکی پر قانونی حیثیت مشکوک
اسلام آباد (اسٹاف رپورٹر)
وفاقی دارالحکومت کی یونین کونسل نمبر 17 کورال میں کمرشل گاڑیوں سے مبینہ طور پر ٹیکس وصول کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے، جس پر مقامی شہریوں اور گاڑی مالکان نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ شہریوں کے مطابق انہیں ایک تحریری پرچی موصول ہوئی ہے جس میں کمرشل گاڑیوں سے ٹیکس کی ادائیگی کا مطالبہ کیا گیا ہے، جبکہ عدم ادائیگی کی صورت میں 11 گنا جرمانے کی دھمکی بھی درج ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ پرچی پر کسی واضح قانونی نوٹیفکیشن، ٹینڈر نمبر یا متعلقہ اتھارٹی کی مکمل تفصیل درج نہیں، جس سے یہ سوال جنم لیتا ہے کہ آیا یہ ٹیکس کسی باقاعدہ چونگی یا قانونی فیس کے زمرے میں آتا ہے یا پھر کسی خود ساختہ نظام کے تحت وصول کیا جا رہا ہے۔
قانونی دائرہ اختیار پر سوال
قانونی ماہرین کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں کسی بھی قسم کا مقامی ٹیکس، فیس یا چونگی صرف مجاز اتھارٹی کی منظوری، باقاعدہ نوٹیفکیشن اور شفاف ٹینڈر کے ذریعے ہی وصول کی جا سکتی ہے۔ یونین کونسلز کو محدود انتظامی اختیارات حاصل ہوتے ہیں، تاہم وہ از خود کمرشل گاڑیوں پر ٹیکس عائد کرنے یا جرمانے مقرر کرنے کی مجاز نہیں ہوتیں، جب تک اس کی واضح اجازت قانون یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے نہ دی گئی ہو۔
11 گنا جرمانہ، قانون یا دھمکی؟
پرچی میں درج 11 گنا جرمانے کی شق پر بھی شدید اعتراض کیا جا رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ کسی بھی ٹیکس یا فیس پر جرمانہ صرف متعلقہ قانون کے تحت اور باقاعدہ طریقہ کار کے مطابق ہی عائد کیا جا سکتا ہے، جبکہ اس نوعیت کی دھمکی شہریوں کو ہراساں کرنے کے مترادف ہے۔
شہریوں کا ڈپٹی کمشنر اسلام آباد سے نوٹس لینے کا مطالبہ
متاثرہ شہریوں اور کمرشل گاڑی مالکان نے Office of the Deputy Commissioner, Islamabad سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے اور واضح کیا جائے کہ آیا یونین کونسل 17 کورال میں وصول کیا جانے والا یہ ٹیکس قانونی ہے یا نہیں۔ شہریوں نے شفاف تحقیقات اور ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
انتظامیہ کی خاموشی
اس حوالے سے جب متعلقہ یونین کونسل یا ضلعی انتظامیہ کے حکام سے مؤقف لینے کی کوشش کی گئی تو تاحال کوئی باضابطہ جواب سامنے نہیں آ سکا۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ ٹیکس غیر قانونی ثابت ہوا تو یہ نہ صرف اختیارات کے ناجائز استعمال کا معاملہ ہوگا بلکہ شہریوں کے اعتماد کو بھی شدید نقصان پہنچے گا۔
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں کسی بھی قسم کی ٹیکس وصولی کو قانون، شفافیت اور عوامی مفاد کے دائرے میں رکھا جائے تاکہ شہریوں کو غیر قانونی بوجھ اور ہراسانی سے محفوظ رکھا جا سکے

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے