راولپنڈی کے تھانہ روات کی حدود میں مبینہ زیادتی کا ایک انتہائی سنگین واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں متاثرہ خاتون نے پولیس پر شدید الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ 19 جنوری کو اس کے ساتھ زیادتی کی گئی، تاہم واقعے کے باوجود نہ تو بروقت میڈیکل پراسس کروایا گیا اور نہ ہی مقدمہ درج کیا گیا۔
متاثرہ خاتون کے مطابق اس نے واقعے کے فوراً بعد تھانہ روات سے رجوع کیا، لیکن نامزد تفتیشی افسر نے مبینہ طور پر کیس کو سنجیدگی سے لینے کے بجائے دانستہ طور پر تاخیری حربے استعمال کیے۔ خاتون کا کہنا ہے کہ نہ اس کا میڈیکل کروایا گیا، جو کہ زیادتی کے کیس میں بنیادی قانونی تقاضا ہے، اور نہ ہی ایف آئی آر درج کی گئی۔
خاتون کے مطابق بالآخر آئی جی پنجاب کے پورٹل پر شکایت درج کروانے کے بعد پولیس حرکت میں آئی، جس کے بعد مقدمہ درج کرنا ممکن ہو سکا۔ تاہم متاثرہ خاتون نے مزید الزام عائد کیا ہے کہ اب تفتیشی افسر مبینہ طور پر ملزمان سے ملی بھگت کر رہا ہے اور اسے اور اس کے اہل خانہ کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔
متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ تفتیشی افسر اسے یہ کہہ کر ہراساں کر رہا ہے کہ وہ اس کا کیس خراب کر دے گا اور اسے انصاف نہیں ملنے دے گا۔ خاتون نے دعویٰ کیا ہے کہ اسے شدید خوف لاحق ہے اور اگر اسے انصاف فراہم نہ کیا گیا تو وہ سی پی او راولپنڈی آفس کے سامنے خودکشی کرنے پر مجبور ہو جائے گی، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ پولیس افسران پر عائد ہو گی۔
واقعے نے پولیس کی کارکردگی اور خواتین کے تحفظ کے دعوؤں پر ایک بار پھر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔ شہری حلقوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے تفتیشی افسر کو فوری طور پر معطل کیا جائے، غیر جانبدار افسر سے شفاف انکوائری کروائی جائے اور متاثرہ خاتون کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ سی پی او راولپنڈی اور اعلیٰ پولیس حکام اس سنگین معاملے پر کیا ایکشن لیتے ہیں، یا متاثرہ خاتون انصاف کے لیے مزید در در بھٹکنے پر مجبور رہے گی۔