Blog Post

Countrymedia Service > News > Twin Cities Times > سروہا میں قتل کیس: بیوہ ماں کو دھمکیاں، نامزد ملزمان کے خلاف کارروائی نہ ہونے پر انصاف کی اپیل

سروہا میں قتل کیس: بیوہ ماں کو دھمکیاں، نامزد ملزمان کے خلاف کارروائی نہ ہونے پر انصاف کی اپیل

کلرسیداں کے نواحی علاقے سروہا میں اکلوتے بیٹے کے مبینہ قتل کے بعد متاثرہ بیوہ خاتون کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے والے ملزمان کے خلاف تاحال کارروائی نہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جس پر اہلِ خانہ نے اعلیٰ حکام سے فوری انصاف کی اپیل کی ہے۔

متاثرہ خاتون کے مطابق سال 2025 میں سروس شوز کلرسیداں کے منیجر محمد اخلاق کو مشکوک حالات میں قتل کیا گیا۔ ابتدائی طور پر واقعے کو خودکشی قرار دیا گیا، تاہم بعد ازاں نامعلوم ملزمان کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا گیا۔ مقتول کی والدہ کا دعویٰ ہے کہ غالب محمود، عاصم محمود، مصور اور نذیر عرف ناجی اس قتل میں ملوث ہیں اور وہ مسلسل انہیں ہراساں کرنے کے ساتھ جان سے مارنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔

خاتون نے الزام عائد کیا کہ کلرسیداں پولیس کے تفتیشی افسر نے مبینہ طور پر مذکورہ افراد سے ملی بھگت کرتے ہوئے ان کی درخواست پر کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی۔ ان کا کہنا ہے کہ جس روز ان کے بیٹے کو قتل کیا گیا، اس کے پاس سیل کی مد میں ساڑھے چار لاکھ روپے نقد موجود تھے۔ مزید برآں انہوں نے الزام لگایا کہ مقتول کی اہلیہ نے کریڈٹ کارڈ استعمال کرتے ہوئے اپنے چچا گل شبیر کے ساتھ مل کر تمام رقم، طلائی زیورات اور دیگر قیمتی سامان لے کر میکے منتقل کر دیا۔

متاثرہ خاتون کے مطابق اب بہو اور اس کا چچا آئے روز انہیں اور ان کی بیٹی کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں اور گھر پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس کے باعث وہ شدید خوف و ہراس کا شکار ہیں۔

مقتول محمد اخلاق کی والدہ نے وزیراعلیٰ پنجاب سے اپیل کی ہے کہ انہیں اور ان کی بیٹی کو جان و مال کا تحفظ فراہم کیا جائے اور نامزد ملزمان کے خلاف شفاف تحقیقات کے ذریعے فوری قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ انہیں انصاف مل سکے۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے