Blog Post

Countrymedia Service > News > Lifestyle > منہ کے جراثیم اعصابی بیماری کو بھی بگاڑ سکتے ہیں، تحقیق

منہ کے جراثیم اعصابی بیماری کو بھی بگاڑ سکتے ہیں، تحقیق

عام طور پر نظرانداز کیے جانے والے یہ جراثیم بعض کیسز میں بیماری کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں

526 دانت اوپری جبڑے پر ایک تھیلی میں بند تھے۔
جاپان میں ہونے والی ایک نئی تحقیق نے منہ کی صحت کے حوالے سے ایک چونکا دینے والا پہلو سامنے لایا ہے، جس کے مطابق مسوڑھوں سے جڑے جراثیم نہ صرف دانتوں بلکہ سنگین اعصابی بیماریوں کی شدت پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ عام طور پر نظرانداز کیے جانے والے یہ جراثیم بعض کیسز میں بیماری کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔

تحقیق میں خاص طور پر ملٹی پل سکلیروسز (ایم ایس) نامی بیماری کا جائزہ لیا گیا، جو ایک دائمی اعصابی عارضہ ہے۔ اس بیماری میں مدافعتی نظام اعصاب کے حفاظتی غلاف کو نقصان پہنچاتا ہے، جس کے نتیجے میں جسم اور دماغ کے درمیان پیغامات کی ترسیل متاثر ہوتی ہے۔ اس کے باعث مریضوں کو کمزوری، چلنے میں دشواری، توازن کے مسائل اور بینائی کی خرابی جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ماہرین نے تحقیق کے دوران ایم ایس کے مریضوں کی زبان سے نمونے حاصل کیے اور ان میں موجود بیکٹیریا کا تفصیلی تجزیہ کیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ جن افراد کے منہ میں ’’فوزوبیکٹیریم نیوکلئیٹم‘‘ نامی جرثومہ زیادہ مقدار میں پایا گیا، ان میں بیماری کی علامات زیادہ شدت کے ساتھ ظاہر ہوئیں۔ اس کے ساتھ ساتھ دیگر نقصان دہ جراثیم بھی ایسے مریضوں میں موجود تھے، تاہم یہ تعلق خاص طور پر ایم ایس کے مریضوں میں نمایاں رہا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مسوڑھوں کی بیماری دراصل ایک طویل المدتی انفیکشن ہے جو دنیا کی بڑی آبادی کو متاثر کرتا ہے۔ یہ بیماری نہ صرف دانتوں کے مسائل پیدا کرتی ہے بلکہ دل کے امراض، ذیابیطس اور جوڑوں کی بیماریوں کے خطرات بھی بڑھا سکتی ہے۔

تحقیق کے نتائج اس بات پر زور دیتے ہیں کہ منہ کی صفائی کو معمولی نہ سمجھا جائے، کیونکہ اس کا تعلق صرف دانتوں تک محدود نہیں بلکہ مجموعی صحت، خاص طور پر اعصابی بیماریوں کی شدت سے بھی جڑا ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق بہتر زبانی حفظانِ صحت اپنانا مستقبل میں کئی پیچیدہ بیماریوں سے بچاؤ میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے