United States اور Iran کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار، Pakistan ثالثی کی کوششوں میں سرگرم، جبکہ Strait of Hormuz عالمی معیشت کے لیے خطرہ بن گیا
مشرقِ وسطیٰ میں ایک بار پھر کشیدگی بڑھ رہی ہے جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان جوہری پروگرام، اقتصادی پابندیوں اور علاقائی اثر و رسوخ کے معاملات پر اختلافات برقرار ہیں، جس کے باعث مذاکرات کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے۔
حالیہ پیش رفت میں ایران نے عالمی حمایت حاصل کرنے کے لیے Russia سے رابطے بڑھا دیے ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ نے ماسکو کا دورہ کیا جہاں انہوں نے صدر Vladimir Putin سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں امریکہ کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اور خطے کی بدلتی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
دوسری جانب امریکہ نے ایران کو مذاکرات کی پیشکش تو کی ہے، لیکن سخت شرائط کے ساتھ، جن میں جوہری سرگرمیوں پر مکمل کنٹرول شامل ہے۔ ایران نے ان شرائط کو یکطرفہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے، جس سے سفارتی عمل مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔
اس صورتحال میں پاکستان ایک اہم ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے۔ اسلام آباد نے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے پسِ پردہ سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ ذرائع کے مطابق پاکستان کی کوشش ہے کہ براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو تاکہ کسی ممکنہ تصادم کو روکا جا سکے۔
ادھر Strait of Hormuz کی صورتحال نے عالمی سطح پر تشویش بڑھا دی ہے۔ یہ آبی راستہ دنیا کی تیل سپلائی کا ایک بڑا ذریعہ ہے، اور ایران کی جانب سے اس پر دباؤ ڈالنے کے اشارے عالمی منڈیوں میں بے چینی پیدا کر رہے ہیں۔ اگر اس راستے میں رکاوٹ آتی ہے تو تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے اثرات پوری دنیا کی معیشت پر پڑیں گے۔
عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ
مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خطرات
عالمی معیشت میں عدم استحکام
بڑی طاقتوں کے درمیان بلاک پولیٹکس میں اضافہ
ماہرین کے مطابق یہ تنازع اب صرف دو ممالک تک محدود نہیں رہا بلکہ اس میں عالمی طاقتیں بھی شامل ہو رہی ہیں، جس سے صورتحال مزید حساس ہو گئی ہے۔ اگر فوری طور پر سفارتی حل نہ نکالا گیا تو یہ بحران ایک بڑے علاقائی تصادم میں تبدیل ہو سکتا ہے۔