Blog Post

Countrymedia Service > News > News > ڈیورنڈ لائن کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل کیا جائے، نیشنل یونٹی گورنمنٹ کی تشکیل وقت کی ضرورت ہے: محمد علی درانی

ڈیورنڈ لائن کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل کیا جائے، نیشنل یونٹی گورنمنٹ کی تشکیل وقت کی ضرورت ہے: محمد علی درانی

لاہور:
27 فروری: سینیئر سیاستدان اور سابق وفاقی وزیر محمد علی درانی نے کہا ہے کہ ڈیورنڈ لائن کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل کرنے کا وقت آ چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چونکہ افغانستان ڈیورنڈ لائن کو تسلیم نہیں کرتا، اس لیے پاکستان کو بھی اپنی پالیسی پر ازسرِ نو غور کرنا چاہیے اور واخان کی پٹی کے حوالے سے واضح مؤقف اختیار کرنا چاہیے تاکہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کی راہ ہموار ہو سکے۔

اپنے بیان میں انہوں نے الزام عائد کیا کہ افغان حکومت کی جانب سے پاکستان کے خلاف حالیہ اقدامات نہ صرف خطے کے امن کے لیے خطرہ ہیں بلکہ یہ بین الاقوامی قوانین اور سفارتی اصولوں کی بھی خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان پر کسی قسم کی جارحیت مسلط کی گئی ہے تو اس پر عالمی برادری کو نوٹس لینا چاہیے۔

محمد علی درانی نے کہا کہ پاکستان کے خلاف کسی بھی قسم کی مسلح کارروائی، دوحا میں طے پانے والے معاہدے کی روح کے منافی ہے، لہٰذا معاہدے کے ضامن ممالک کو اس صورتحال پر وضاحت طلب کرنی چاہیے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ عالمی سطح پر افغانستان کی سرزمین دہشت گرد عناصر کے استعمال کے خدشات کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا جا چکا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان میں امریکی افواج کے انخلا کے بعد چھوڑا گیا اسلحہ علاقائی اور عالمی امن کے لیے خطرہ بن سکتا ہے، لہٰذا عالمی برادری کو اس مسئلے کے حل کے لیے پاکستان کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔

سابق وفاقی وزیر نے پاکستان کی مسلح افواج کی جوابی کارروائیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ افواجِ پاکستان نے ہمیشہ ذمہ داری اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملکی سلامتی کا دفاع کیا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ خطے میں بعض ممالک کے باہمی روابط اور حالیہ سفارتی سرگرمیوں کے تناظر میں پاکستان کے خلاف اقدامات پر سنجیدہ سفارتی توجہ کی ضرورت ہے۔

ملکی سلامتی کو درپیش خطرات کے پیش نظر محمد علی درانی نے تجویز دی کہ ملک میں نیشنل یونٹی گورنمنٹ یا وار کیبنٹ تشکیل دی جائے تاکہ قومی سطح پر مکمل اتحاد کے ساتھ فیصلے کیے جا سکیں۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں، بشمول پاکستان تحریک انصاف، پر زور دیا کہ وہ سیاسی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر قومی مفاد اور سلامتی کے ایجنڈے پر متحد ہوں۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ قومی یکجہتی اور مربوط حکمتِ عملی کے ذریعے پاکستان داخلی و خارجی چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کر سکتا ہے۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے