Blog Post

Countrymedia Service > News > Twin Cities Times > اسلام آباد میں منشیات سے جڑی مبینہ غیر قانونی پارٹیوں کا جال، لوہی بھیر میں نوجوان نسل داؤ پر لگ گئی

اسلام آباد میں منشیات سے جڑی مبینہ غیر قانونی پارٹیوں کا جال، لوہی بھیر میں نوجوان نسل داؤ پر لگ گئی

اسلام آباد
وفاقی دارالحکومت کے علاقے تھانہ لوہی بھیر کی حدود میں مبینہ طور پر منشیات سے متعلق غیر قانونی پارٹیوں کے مسلسل انعقاد کا سنسنی خیز انکشاف سامنے آیا ہے، جس نے شہریوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ پارٹیاں مختلف نجی فارم ہاؤسز، گھروں اور پوش علاقوں میں رات گئے منعقد کی جاتی ہیں، جہاں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں بڑی تعداد میں شریک ہوتے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ان محفلوں میں آئس (کرسٹل میتھ)، کوکین، ایکسٹیسی اور دیگر نشہ آور گولیوں کے ساتھ ساتھ شراب کا بھی کھلے عام استعمال کیا جاتا ہے۔ بعض اطلاعات کے مطابق ان پارٹیوں میں باقاعدہ نیٹ ورکس کے ذریعے منشیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جاتا ہے، جبکہ سیکیورٹی کے لیے مخصوص افراد تعینات کیے جاتے ہیں تاکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائی سے بچا جا سکے۔
مقامی رہائشیوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان تقریبات کا سلسلہ کافی عرصے سے جاری ہے اور اکثر رات بھر تیز میوزک، ہنگامہ آرائی اور مشکوک سرگرمیاں دیکھنے میں آتی ہیں۔ شہریوں کے مطابق کئی بار متعلقہ تھانے کو شکایات درج کروائی گئیں، تاہم خاطر خواہ کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی، جس سے پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان کھڑے ہو گئے ہیں۔

سماجی حلقوں اور ماہرین نے اس صورتحال کو نہایت خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ منشیات کے بڑھتے ہوئے استعمال سے نہ صرف نوجوانوں کی صحت اور مستقبل تباہ ہو رہا ہے بلکہ جرائم میں اضافے کا بھی خدشہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے ماحول میں پروان چڑھنے والی نسل معاشرتی بگاڑ کا شکار ہو سکتی ہے، جس کے اثرات طویل المدتی ہوں گے۔
اہل علاقہ اور شہری تنظیموں نے حکومتِ اسلام آباد، آئی جی پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ان مبینہ غیر قانونی پارٹیوں کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن کیا جائے، منشیات سپلائی کرنے والے نیٹ ورکس کو بے نقاب کیا جائے اور اگر کسی اہلکار کی غفلت یا ملی بھگت سامنے آئے تو اس کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ مسئلہ مزید سنگین شکل اختیار کر سکتا ہے اور دارالحکومت کا امن و سکون شدید متاثر ہو سکتا ہے۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے