تحریر: محمد رضوان عارف
چاند کا اپنا ایک سحر ہوتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ چین میں صدیوں سے چاند کو گواہ بنا کر خاندان، دوست اور ہمسائے ایک ساتھ بیٹھتے ہیں، مون کیک بانٹتے ہیں اور رنگ برنگی لالٹینیں روشن کرتے ہیں۔رواں سال یہ خزاں کا تہوار 25 ستمبر کو منایا گیا، مگر جنوب مغربی چین کے شہر چونگ چھنگ میں اس بار چاند کی روشنی میں صرف چینی خاندان نہیں بلکہ دنیا بھر سے آئے سو سے زائد غیر ملکی سفارت کار اور طالب علم بھی شریک تھے۔یہ محفل کسی رسمی تقریب کی طرح نہیں بلکہ ایک زندہ تجربے کی طرح سجائی گئی تھی۔ شام کا آغاز مشرقی فلسفے کی جھلک سے ہوا، جب غیر ملکی مہمانوں نے تائی چی کے روایتی لباس زیب تن کیے اور ماہر اساتذہ کی رہنمائی میں اس قدیم مارشل آرٹ کی نرم مگر پراثر حرکتیں سیکھیں۔ کمبوڈیا کے قونصل جنرل نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کا پہلا تجربہ تھا اور جس چیز نے انہیں سب سے زیادہ متاثر کیا وہ تائی چی کی نرم مگر اندر سے گرمجوش حرکت تھی۔ ان کے بقول اس تہوار کی اصل خوبصورتی یہی ہے کہ دنیا بھر سے لوگ ایک جگہ جمع ہو کر خوشی کا لمحہ بانٹتے ہیں۔تھوڑی دیر بعد محفل کا رنگ ہی بدل گیا جب مہمانوں نے اپنے ہاتھوں سے مون کیک بنانے شروع کیے۔ آٹا گوندھنا، اندر میٹھی بھرائی رکھنا، اور پھر روایتی نقش و نگار سے سجانا، یہ سب دیکھنے میں جتنا آسان لگتا ہے، کرنے میں اتنا ہی دلچسپ ثابت ہوا۔ اٹلی کے قونصل جنرل نے اس تجربے کو ایک خوبصورت جذباتی تعلق سے جوڑا۔ ان کے مطابق یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسان اپنے قریبی لوگوں کے ساتھ وقت گزارتا ہے، اور ان کا کہنا تھا کہ اطالوی ثقافت میں بھی تہوار خاندان اور قریبی دوستوں کے ساتھ منانے کی روایت ہے، اس لیے انہیں یہاں ایک مانوس سا احساس ہوا۔
اسی دوران غیر ملکی طلبہ نے بھی خود کو اس ثقافتی رنگ میں رنگ لیا۔ کسی نے خوشبودار جڑی بوٹیوں سے کلائی کے کنگن بنائے تو کسی نے برش تھام کر چینی خطاطی کی باریکیاں سیکھیں۔ ساؤتھ ویسٹ یونیورسٹی کی ایک روسی طالبہ نے کہا کہ یہ چینی عوام کے لیے واقعی ایک خاص دن ہے اور وہ اسے بڑی روشنی اور جوش کے ساتھ مناتے ہیں، اور انہیں خوشی ہے کہ وہ اس تہوار اور اس ثقافت کا حصہ بن سکیں۔ ایک اور روسی طالب علم نے اسے چینی ثقافت میں شامل ہونے کا شاندار موقع قرار دیا، اور بتایا کہ لوگوں سے ملنا، اور روسی و چینی ثقافت کا یوں آپس میں گھل مل جانا، چاہے وہ روایتی لباس ہو یا زیورات، ان کے لیے ایک یادگار تجربہ تھا۔شام کے اختتام پر سب مہمانوں نے مل کر ایک بڑا یادگاری مون کیک بانٹا، اور اسی ایک لمحے میں پوری محفل کا مقصد سامنے آ گیا۔ خزاں کا یہ تہوار دراصل مختلف ثقافتوں کے درمیان ایک پل بن گیا — ایک ایسا پل جو ثابت کرتا ہے کہ امن اور یگانگت کی خواہش کسی سرحد یا زبان کی محتاج نہیں ہوتی۔یہ منظر دیکھ کر یہ بات سمجھ آتی ہے کہ ثقافتی تہوار محض روایت نبھانے کا نام نہیں، بلکہ یہ وہ موقع ہوتے ہیں جہاں اجنبی لوگ بھی چند گھنٹوں میں ایک دوسرے کے قریب آ جاتے ہیں۔ چاند کی روشنی میں چونگ چھنگ کی یہ شام صرف ایک تقریب نہیں بلکہ اس بات کی ایک خوبصورت مثال تھی کہ جب دنیا مل بیٹھے تو فاصلے مٹ جاتے ہیں اور صرف ایک ہی زبان باقی رہتی ہے۔انسانیت کی زبان۔