برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے چین کا دورہ شروع کیا — یہ آٹھ سال میں کسی برطانوی وزیر اعظم کا سب سے اہم دورہ چین ہے۔ اُنہوں نے چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کی جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانا ہے۔ اس موقع پر اسٹارمر نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ برطانیہ اور چین کے تعلقات “زیادہ پیچیدہ (sophisticated)” اور مضبوط ہوں، تاکہ اقتصادی تعاون، سلامتی اور بات چیت میں بہتری آئے۔
شی جن پنگ نے بھی کہا کہ دونوں ممالک کو اختلافات کے باوجود تعاون بڑھانا چاہیے اور تعلقات کو فروغ دینا چاہیے تاکہ دنیا میں امن اور استحکام قائم رہے۔
اس دورے میں کاروباری وفد بھی شامل ہے جو تقریباً 50 سے زیادہ بزنس رہنماؤں پر مشتمل ہے، جس کا مقصد چینی مارکیٹ سے روابط میں اضافہ اور تجارتی مواقع تلاش کرنا ہے۔
🤝 اقتصادی اور سلامتی تعاون پر اتفاق
اسٹارمر اور شی جن پنگ نے تعلقات کو “جامع حکمت عملی شراکت” (comprehensive strategic partnership) بنانے پر بات کی، جس میں climate change اور عالمی استحکام جیسے مسائل پر تعاون شامل ہے۔
ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ دونوں رہنماؤں نے غیر قانونی تارکین وطن کے نقصان دہ راستوں کو روکنے کے لیے تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا، خاص طور پر وہ مسائل جو انگلش چینل میں غیر قانونی عبور سے تعلق رکھتے ہیں۔
🌏 عالمی تناظر میں چین کا کردار
چین خود کو ایک اہم عالمی شراکت دار کے طور پر پیش کر رہا ہے، خاص طور پر ایسے ممالک کے ساتھ جن کے تعلقات امریکہ کے ساتھ پیچیدہ ہو رہے ہیں، اور وہ چاہتا ہے کہ بین الاقوامی تعاون اور تجارت میں اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔