Blog Post

Countrymedia Service > News > Diplomatic News > ایران-امریکہ جوہری مذاکرات میں اہم پیشرفت، تکنیکی بات چیت ویانا منتقل کرنے کا فیصلہ

ایران-امریکہ جوہری مذاکرات میں اہم پیشرفت، تکنیکی بات چیت ویانا منتقل کرنے کا فیصلہ

ایران اور امریکہ کے درمیان جاری جوہری سفارتی مذاکرات کا حالیہ دور جنیوا میں اختتام پذیر ہوگیا، جہاں عمان کی ثالثی میں ہونے والی بات چیت میں نمایاں پیشرفت سامنے آئی ہے۔ اگرچہ فریقین کے درمیان کسی حتمی معاہدے کا اعلان نہیں کیا گیا، تاہم دونوں جانب سے مذاکراتی عمل کو تعمیری اور مثبت قرار دیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق مذاکرات میں ایران کے ایٹمی پروگرام، یورینیم کی افزودگی کی سطح، بین الاقوامی نگرانی کے طریقہ کار، اور ایران پر عائد اقتصادی پابندیوں کے خاتمے جیسے اہم امور زیر بحث آئے۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک نے بعض نکات پر اصولی ہم آہنگی ظاہر کی ہے، تاہم چند تکنیکی اور قانونی معاملات پر مزید غور کی ضرورت ہے۔

مذاکراتی عمل میں پیشرفت کو برقرار رکھنے کے لیے فیصلہ کیا گیا ہے کہ اگلا مرحلہ ویانا میں تکنیکی سطح پر جاری رکھا جائے گا، جہاں ماہرین اور سفارتی حکام تفصیلی نکات کو حتمی شکل دینے کی کوشش کریں گے۔ ویانا میں ہونے والی بات چیت میں بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے معیارات اور نگرانی کے طریقہ کار پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال متوقع ہے۔

ایرانی حکام نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کسی بھی معاہدے کی بنیاد باہمی احترام اور مکمل پابندیوں کے خاتمے پر ہونی چاہیے، جبکہ امریکی حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ایران کو اپنے جوہری پروگرام سے متعلق عالمی خدشات دور کرنے کے لیے شفاف اقدامات کرنا ہوں گے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ پیشرفت مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے اور عالمی توانائی منڈیوں میں استحکام لانے کی جانب اہم قدم ثابت ہوسکتی ہے، تاہم حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے دونوں فریقوں کو مزید لچک اور سفارتی سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر ویانا میں ہونے والی تکنیکی بات چیت کامیاب رہتی ہے تو آئندہ چند ہفتوں میں کسی عبوری فریم ورک یا ابتدائی سمجھوتے کا امکان بھی پیدا ہوسکتا ہے۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے