Blog Post

Countrymedia Service > News > International > ٹرمپ کا ایران کے خلاف جنگ جاری رکھنے کا اعلان، اب شدت سے حملے کیے جائیں گے، تہران کو وارننگ

ٹرمپ کا ایران کے خلاف جنگ جاری رکھنے کا اعلان، اب شدت سے حملے کیے جائیں گے، تہران کو وارننگ

آپریشن اپنے اہم مراحل طے کر چکا ہے اور اب اسے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا، امریکی صدر

واشنگٹن:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری کشیدگی میں شدت لانے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ چند ہفتے انتہائی اہم ہوں گے اور فوجی کارروائیاں مزید تیز کی جا سکتی ہیں۔

امریکی عوام سے خطاب میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی افواج نے گزشتہ ایک ماہ کے دوران ایران کے اہم عسکری ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور کئی اہم اہداف کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

ان کے بقول آپریشن اپنے اہم مراحل طے کر چکا ہے اور اب اسے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔

ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران کی جانب سے ممکنہ خطرات میں نمایاں کمی آئی ہے اور اس کے اسٹریٹجک عزائم کو خاصا نقصان پہنچا ہے۔

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ مکمل اہداف کے حصول تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔ انہوں نے ایران کی توانائی تنصیبات کو بھی ممکنہ ہدف قرار دیا۔

ایران کی اسرائیل پر میزائل حملوں کی تازہ لہر، تل ابیب سمیت کئی شہروں میں دھماکے

امریکا اور اسرائیل کے فضائی حملے میں سابق ایرانی وزیر خارجہ شدید زخمی، اہلیہ شہید

امریک عوام سے کوئی دشمنی نہیں، ایرانی صدر کا امریکی عوام کے نام خط

امریکی صدر نے ایرانی حکومت پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دہائیوں میں عوامی مظاہروں کو طاقت سے کچلا گیا تاہم انہوں نے ان دعوؤں کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔

خطاب کے دوران انہوں نے مشرق وسطیٰ کے اتحادی ممالک، جن میں سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، کویت اور بحرین شامل ہیں، کے تحفظ کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔

تیل کی عالمی منڈیوں پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا اب توانائی کے شعبے میں خود کفیل ہو چکا ہے اور اسے مشرق وسطیٰ کے تیل پر پہلے جیسا انحصار نہیں رہا۔

ان کے مطابق خطے میں کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا تاہم صورتحال جلد معمول پر آ سکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں جاری تنازع اپنے اختتامی مراحل میں داخل ہو رہا ہے اور جیسے ہی کشیدگی کم ہوگی اہم بحری گزرگاہیں، خصوصاً آبنائے ہرمز، خود بخود بحال ہو جائیں گی۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے