Blog Post

Countrymedia Service > News > Articles > مستقبل کے آئینے میں چند روز

مستقبل کے آئینے میں چند روز

تحریر: محمد رضوان عارف
سفر انسان کو صرف نئی جگہیں نہیں دکھاتا، بلکہ سوچنے کے زاویے بھی بدل دیتا ہے۔ حال ہی میں بطور میڈیا نمائندہ چین جانے کا موقع ملا، تو یہ پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ ایک آنکھیں کھول دینے والا مشاہداتی سفر بن گیا۔ یہ دورہ صرف روایتی میٹنگز تک محدود نہیں تھا، بلکہ ایک صحافی کی حیثیت سے ساتھ ساتھ رپورٹنگ اور دفتری کام بھی چلتا رہا اور ساتھ ہی چین کی تیز رفتار زندگی، ٹیکنالوجی اور صنعتی قوت کو قریب سے دیکھنے کا عمل بھی جاری رہا۔اس مطالعاتی سفر کا آغاز مختلف شہروں، کارخانوں اور تجارتی مراکز کے دوروں سے ہوا۔ سب سے پہلے گوانگ چو اور فوشان کے دورے نے چین کے صنعتی انقلاب کی عملی تصویر سامنے رکھی۔ فوشان میں مائی آئیڈیا مائیکرو ویو فیکٹری اور فرنیچر فیکٹری کا معائنہ خاص طور پر دنگ کر دینے والا تھا۔ مائیکرو ویو فیکٹری مکمل طور پر خودکار تھی، جہاں انسانوں کے بغیر مصنوعی ذہانت اور جدید روبوٹک بازو خام مال سے لے کر اسمبلنگ اور فائنل پیکنگ تک کا سارا عمل سنبھالے ہوئے تھے۔ دوسری جانب فرنیچر مینوفیکچرنگ میں روبوٹکس کے ذریعے ڈیزائننگ، کٹنگ اور فنشنگ میں جو رفتار اور باریکی دیکھی، اس نے واضح کیا کہ کارخانوں کا پرانا تصور اب تاریخ بن چکا ہے۔ گوانگ چو میں جہاں کینٹن ٹاور کے فلک بوس شاہکار اور روشنیوں نے مسحور کیا، وہیں گوانگ چو آرٹ میوزیم کا دورہ روح کو تازگی بخش گیا۔ اس عجائب گھر میں چینی تاریخ، روایات، کلاسیکی خطاطی اور روایتی مصوری کے وہ نایاب خزانے موجود ہیں جو بتاتے ہیں کہ چین نے سائنسی ترقی کے عروج پر پہنچ کر بھی اپنی صدیوں پرانی ثقافتی جڑوں کو مضبوطی سے تھام رکھا ہے۔
اسی سفر کے دوران گوانگ چو کی نانشا پورٹ (Nansha Port) کا دورہ اس دورے کا سب سے اہم موڑ ثابت ہوا۔ وہاں سپلائی چین کا مکمل خودکار نظام دیکھ کر عقل دنگ رہ گئی، جہاں انسانی عمل دخل کے بغیر جدید خودکار کرینیں، سینسرز اور سمارٹ گاڑیاں کنٹینرز کی نقل و حمل سیکنڈوں میں سنبھال رہی تھیں۔ اسی پورٹ پر قائم ایک جدید ترین کولڈ چین لاجسٹکس سینٹر کا معائنہ بھی کیا، جس کا مربوط نظام اس قدر تیز رفتار ہے کہ وہ تازہ اشیاء اور غذائی مصنوعات محض ایک گھنٹے کے اندر اندر پورے گریٹر بے ایریا (Great Bay Area) کے شہروں تک باآسانی پہنچا دیتا ہے۔ اس نظام نے یہ راز کھول دیا کہ چین کس طرح اپنی اس بے مثال پورٹ اور جدید لاجسٹکس نیٹ ورک کے ذریعے ایشیا، یورپ اور افریقہ سمیت پوری دنیا کے ساتھ اربوں ڈالرز کی عالمی تجارت کو اتنی روانی، رفتار اور پختگی کے ساتھ چلا رہا ہے۔ نانشا پورٹ دراصل چین کی عالمی سپلائی چین کی وہ مضبوط شہ رگ ہے جس کے بل بوتے پر دنیا بھر کی منڈیاں چینی مصنوعات سے جڑی ہوئی ہیں۔ اس کے بعد شینزین کی متحرک فضا کا مشاہدہ کیا، جسے دنیا ٹیکنالوجی کا گڑھ مانتی ہے۔ آسمان سے باتیں کرتی فلک بوس عمارتیں، منظم سڑکیں اور جدت کی روانی دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ چند دہائیوں قبل مچھیروں کا ایک چھوٹا سا قصبہ کس طرح آج دنیا کا سب سے بڑا ٹیک حب بن گیا۔ یہاں کی نمائشوں میں مکمل خودکار روبوٹس کو انسانوں کی طرح نفاست سے آئس کریم بناتے اور مہارت کے ساتھ ٹیبل ٹینس کھیلتے دیکھ کر یہ یقین پختہ ہو گیا کہ مصنوعی ذہانت اب تجربات سے نکل کر روزمرہ معمولات کا حصہ بن چکی ہے۔
ان گراؤنڈ وزٹس کے بعد اس سفر کا مرکزی پڑاؤ ایشیا پیسیفک میڈیا فورم 2026 بنا۔ خطے بھر سے آئے نامور صحافیوں اور ابلاغی ماہرین کے درمیان بطور پاکستانی صحافی اپنے ملک کی نمائندگی کرنا ایک بڑا اعزاز اور اہم ذمہ داری تھی۔ فورم میں میڈیا کے بدلتے تقاضوں، صحافت میں اے آئی اور ڈیجیٹل آلات کے استعمال پر تفصیلی مباحثے ہوئے، جہاں پاکستان کا نکتہ نظر بھرپور انداز میں سامنے رکھا گیا۔ فورم کے اختتام پر کچھ آخری فیلڈ وزٹس ہوئے جنہوں نے اس پورے تکنیکی اور تجارتی مشاہدے کو مکمل فہم فراہم کیا۔اس بھرپور مشاہداتی دورے، میڈیا سیشنز اور فیکٹریوں کے جائزے کے بعد سفر کا آخری مرحلہ بیجنگ پہنچ کر اختتام پذیر ہوا۔ بیجنگ کے پرسکون اور تاریخی ماحول میں قدم رکھتے ہوئے یہ احساس مزید پختہ ہو گیا کہ چین کی موجودہ ترقی کوئی اتفاق نہیں بلکہ دہائیوں پر محیط منظم منصوبہ بندی، محنت اور ٹیکنالوجی کے درست استعمال کا نتیجہ ہے۔ مسلسل رپورٹنگ کی مصروفیات کے ساتھ ساتھ چین کا یہ سفر ایک واضح سبق دے گیا کہ دنیا میں بقا اور عزت اب صرف انہی اقوام کی ہے جو وقت کی نبض پہچان کر جدید علوم، آٹومیشن اور پختہ ارادے کے ساتھ اپنے سفر کا آغاز کرتی ہیں۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے