Blog Post

Countrymedia Service > News > Articles > چین کی ریلوے اور بیرونی سرمایہ کاری

چین کی ریلوے اور بیرونی سرمایہ کاری

چین کی ریلوے اور بیرونی سرمایہ کاری
تحریر: محمد رضوان عارف
کبھی آپ نے سوچا ہے کہ ایک ملک کی معیشت کتنی مضبوط ہے، یہ صرف بینکوں کے اعداد و شمار سے نہیں بلکہ اس بات سے بھی پتا چلتا ہے کہ اس کی ٹرینیں کتنا سامان لے کر چل رہی ہیں اور دنیا بھر کے سرمایہ کار اس پر کتنا بھروسہ کر رہے ہیں۔ چین سے آنے والی تازہ خبریں اسی بات کی گواہی دے رہی ہیں۔ رواں سال کے پہلے آٹھ مہینوں میں چین کے ریلوے نیٹ ورک نے دو ارب انہتر کروڑ ٹن سامان کی نقل و حمل کی، اور یہ اعداد و شمار چین اسٹیٹ ریلوے گروپ نے جاری کیے ہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر دیکھیں تو جنوری سے اگست تک اوسطاً ایک لاکھ ستاسی ہزار چار سو مال بردار ویگنیں لوڈ ہو کر چلتی رہیں اور اس دوران قومی معیشت اور عوام کی روزمرہ ضروریات کے لیے اہم اشیاء کی ترسیل کو ترجیح دی گئی۔کوئلے کی نقل و حمل اس نظام کا سب سے بڑا حصہ رہی۔ اس عرصے میں ایک ارب اڑتیس کروڑ نوے لاکھ ٹن کوئلہ ریل کے ذریعے پہنچایا گیا، جس میں سے بیانوے کروڑ اسی لاکھ ٹن صرف بجلی گھروں کے لیے تھا۔ اسی کی بدولت قومی ریلوے نیٹ ورک سے براہ راست جڑے بجلی گھروں میں کوئلے کے ذخائر نسبتاً بلند سطح پر برقرار رہے جو توانائی کی مسلسل فراہمی کے لیے بہت اہم بات ہے۔اناج، کیمیائی مصنوعات اور ٹیکسٹائل کی ترسیل میں بھی خاصا اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اناج کی نقل و حمل میں نو اعشاریہ نو فیصد، کیمیائی مصنوعات میں پانچ اعشاریہ پانچ فیصد اور ٹیکسٹائل میں اکیس اعشاریہ سات فیصد اضافہ ہوا۔ یہ اعداد صرف کاغذی نہیں بلکہ اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ چین کی صنعتیں اور کھیت دونوں مصروف رہے، اور ملک کے اندر پیداوار اور طلب دونوں میں تسلسل قائم رہا۔
ریلوے کی لاجسٹک سروسز میں بھی جدت آئی ہے۔ پہلے آٹھ مہینوں میں تینتیس ہزار ایکسپریس فریٹ ٹرینوں نے سفر مکمل کیا اور چھتیس اعشاریہ ایک تین دو ملین ٹن سامان پہنچایا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں سینتیس فیصد زیادہ ہے۔ یہ اضافہ خاص طور پر ای کامرس اور کولڈ چین جیسی تیز رفتار لاجسٹک خدمات کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے کے لیے کیا گیا۔ریل اور سمندری راستوں کے ملے جلے کنٹینر ٹرانسپورٹ میں آٹھ اعشاریہ چھ فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ریل اور سڑک کے مشترکہ نظام میں تو یہ اضافہ حیران کن حد تک پینسٹھ اعشاریہ پانچ فیصد رہا، جس سے کل بتیس کروڑ ٹن سامان کی ترسیل ہوئی۔ ساتھ ہی چین، یورپ اور وسطی ایشیا کے درمیان مال بردار ٹرینوں کی سروس بھی مستحکم رفتار سے آگے بڑھتی رہی۔ ان آٹھ مہینوں میں چوبیس ہزار چھ سو پانچ ٹرینیں چلیں، جو گزشتہ سال سے نو اعشاریہ سات فیصد زیادہ ہیں، اور ان میں سے چودہ ہزار آٹھ سو بیالیس ٹرینیں صرف چین اور یورپ کے درمیان چلیں، جس میں پندرہ اعشاریہ نو فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا۔
اسی دوران ایک اور دلچسپ پہلو سامنے آیا ہے اور وہ ہے بیرونی سرمایہ کاری کا رخ۔ جہاں چین میں مجموعی طور پر بیرونی براہ راست سرمایہ کاری میں کچھ کمی دیکھی گئی، وہیں ہائی ٹیک صنعتوں میں یہ سرمایہ کاری تیزی سے بڑھی ہے۔ وزارتِ تجارت کے مطابق پہلے آٹھ مہینوں میں ہائی ٹیک شعبے میں سرمایہ کاری پینتیس اعشاریہ ایک فیصد بڑھ کر دو کھرب دو ارب چھبیس کروڑ یوان تک پہنچ گئی، جو تقریباً انتیس اعشاریہ چھیاسٹھ ارب امریکی ڈالر بنتی ہے۔ یہ رقم ملکی سطح پر آنے والی کل سرمایہ کاری کا اکتالیس اعشاریہ سات فیصد ہے، جو پچھلے سال کے مقابلے میں بارہ اعشاریہ چار فیصد زیادہ حصہ ہے۔اس عرصے میں بیالیس ہزار پانچ سو بیاسی نئی غیر ملکی کمپنیاں چین میں قائم ہوئیں، جو گزشتہ سال سے صرف اعشاریہ تین فیصد زیادہ ہیں۔ البتہ حقیقی استعمال میں آنے والی سرمایہ کاری چار کھرب اناسی ارب پچانوے کروڑ یوان رہی، جس میں پانچ اعشاریہ تین فیصد کی کمی آئی۔ اس کے باوجود کچھ ممالک نے اپنی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ کیا۔ فرانس کی سرمایہ کاری انتالیس اعشاریہ دو فیصد، سوئٹزرلینڈ کی سولہ اعشاریہ سات فیصد، اور جنوبی کوریا کی سولہ اعشاریہ پانچ فیصد بڑھی، اور ان اعداد میں فری پورٹس کے ذریعے آنے والی سرمایہ کاری بھی شامل ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ دونوں کہانیاں دراصل ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ ٹرینیں سامان لے جا رہی ہیں تو کارخانے چل رہے ہیں، کارخانے چل رہے ہیں تو سرمایہ کار اعتماد کر رہے ہیں اور جب سرمایہ کار اعتماد کرتے ہیں تو مزید ترقی کا راستہ کھلتا ہے۔ شاید یہی وہ چکر ہے جس کی بدولت چین اپنی معیشت کو، تمام تر عالمی دباؤ کے باوجود، رواں دواں رکھے ہوئے ہے۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے