Blog Post

Countrymedia Service > News > Trending > اسلام آباد پولیس کے اے ایس آئی جاوید مسیح پر مبینہ تشدد، فائرنگ سے زخمی ہونے اور زبردستی بیان لینے کا انکشاف

اسلام آباد پولیس کے اے ایس آئی جاوید مسیح پر مبینہ تشدد، فائرنگ سے زخمی ہونے اور زبردستی بیان لینے کا انکشاف

نیوز رپورٹ

راولاکوٹ میں خصوصی ڈیوٹی پر تعینات اسلام آباد پولیس کے اے ایس آئی جاوید مسیح نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ دورانِ سفر انہیں راستے میں رائے کوٹ اسٹاپ کے قریب مسلح افراد نے روک لیا۔ ان کے مطابق متعدد افراد ڈنڈوں اور اسلحے سے لیس تھے جنہوں نے انہیں گھیر کر پوچھ گچھ شروع کر دی۔

جاوید مسیح کے بیان کے مطابق انہیں زبردستی ایک مقام پر لے جایا گیا جہاں ان سے سخت تفتیش کی گئی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ دورانِ حراست انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ان کی شناخت، آمد کے مقصد اور دیگر معاملات کے بارے میں سوالات کیے گئے۔ ان کے مطابق بار بار یہ پوچھا گیا کہ وہ کہاں سے آئے ہیں، کتنے افراد ہیں اور علاقے میں ان کا کیا مشن ہے۔

متاثرہ اہلکار نے مزید دعویٰ کیا کہ تشدد کے دوران ان پر فائرنگ بھی کی گئی جس کے نتیجے میں ان کی ٹانگ شدید زخمی ہو گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ مسلح افراد نے اسلحے کے زور پر ان سے بیان ریکارڈ کروایا جبکہ مختلف افراد اس تمام کارروائی کی ویڈیو بھی بناتے رہے۔

بیان کے مطابق جاوید مسیح نے بارہا مؤقف اختیار کیا کہ وہ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے خصوصی ڈیوٹی پر آئے تھے اور ان کا کوئی غیر قانونی یا تخریبی مقصد نہیں تھا۔ تاہم ان کے بقول بعض افراد مسلسل دباؤ ڈالتے رہے اور دھمکیاں دیتے رہے۔

جاوید مسیح کے مطابق بعد ازاں وہاں موجود ایک شخص نے ان کی بگڑتی ہوئی حالت اور زیادہ خون بہنے پر توجہ دلائی، جس کے بعد انہیں طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا۔

یہ تمام الزامات جاوید مسیح کے بیان پر مبنی ہیں، جبکہ واقعے کے حوالے سے متعلقہ حکام یا دیگر فریقین کا مؤقف سامنے نہیں آیا۔ واقعے کی آزادانہ تحقیقات کے بعد ہی حقائق کا مکمل تعین کیا جا سکے گا۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے