اسلام آباد: پمز ہسپتال کی نرسری میں پیش آنے والے دلخراش آتشزدگی کے واقعے میں 15 نومولود بچوں کی ہلاکت نے ملک بھر میں غم و افسوس کی لہر دوڑا دی ہے۔ واقعے کے بعد سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سے ذمہ داران کے تعین اور ہسپتالوں میں حفاظتی انتظامات پر سنجیدہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
اس افسوسناک سانحے پر پاکستان تحریک انصاف کے بانی رہنما اکبر ایس بابر نے شدید ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ معصوم نومولود بچوں کی جانوں کا ضیاع انتہائی دل دہلا دینے والا واقعہ ہے۔
اکبر ایس بابر نے اپنے بیان میں کہا کہ وفاقی حکومت، وزارتِ صحت اور ہسپتال انتظامیہ کو اس سانحے کی ذمہ داری کا تعین کرنا ہوگا۔ انہوں نے محض تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دینے کے بجائے عملی اقدامات اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ قوم کو صرف بیانات اور یقین دہانیوں کی نہیں بلکہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ ہسپتالوں میں مریضوں اور خصوصاً نومولود بچوں کی حفاظت کے لیے مؤثر فائر سیفٹی اور ہنگامی انتظامات یقینی بنانا ناگزیر ہے۔
اکبر ایس بابر نے اپنے پیغام کے اختتام پر کہا:
"تحقیقاتی کمیٹی نہیں، استعفے چاہئیں، باتیں نہیں عمل چاہیے، خرافات کی سیاست نہیں، عوام کی خدمت چاہیے۔ بس بہت ہو گئی۔”
دوسری جانب واقعے کی وجوہات اور ہسپتال میں حفاظتی انتظامات سے متعلق تحقیقات جاری ہیں۔ ابتدائی اطلاعات میں آگ کی وجہ کے حوالے سے ایئر کنڈیشننگ سسٹم/کمپریسر اور شارٹ سرکٹ سمیت مختلف امکانات سامنے آئے ہیں، جبکہ ریسکیو ذرائع نے فائر سیفٹی انتظامات پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔
واقعے نے ایک بار پھر ملک کے سرکاری ہسپتالوں میں فائر سیفٹی، ایمرجنسی رسپانس اور مریضوں کے تحفظ کے انتظامات پر سنجیدہ بحث چھیڑ دی ہے۔