اسلام آباد سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں "ٹائینز” کے نام سے سرگرم ایک مبینہ کمپنی کے خلاف فراڈ کے سنگین الزامات سامنے آ رہے ہیں۔ تازہ معلومات کے مطابق اس نیٹ ورک کی متعدد برانچیں مختلف علاقوں میں قائم ہیں، جہاں سے نوجوانوں کو فوڈ اتھارٹی میں نوکری کا جھانسہ دے کر مبینہ طور پر لوٹا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کمپنی نے اپنے آپ کو ایک منظم ادارے کے طور پر ظاہر کرنے کے لیے مختلف شہروں میں دفاتر قائم کر رکھے ہیں، تاکہ لوگوں کا اعتماد حاصل کیا جا سکے۔ اسلام آباد، لاہور، ملتان اور دیگر شہروں میں ان کی سرگرمیوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جہاں نوجوانوں کو انٹرویو اور ٹریننگ کے نام پر بلایا جاتا ہے۔
متاثرین کے مطابق کمپنی کے نمائندے سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع سے رابطہ کر کے سرکاری نوکری، خاص طور پر فوڈ اتھارٹی میں بھرتی کا دعویٰ کرتے ہیں۔ امیدواروں سے رجسٹریشن فیس، ٹریننگ چارجز اور دیگر مد میں رقم وصول کی جاتی ہے، جبکہ بعد ازاں نہ نوکری ملتی ہے اور نہ ہی رقم واپس کی جاتی ہے۔
یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مختلف برانچوں کے دفاتر عارضی نوعیت کے ہوتے ہیں، جو کچھ عرصے بعد بند کر دیے جاتے ہیں یا منتقل ہو جاتے ہیں، جس سے متاثرین کے لیے قانونی کارروائی کرنا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔
متعدد متاثرہ افراد سامنے آ چکے ہیں جو اس فراڈ کا شکار ہو کر مالی نقصان اٹھا چکے ہیں۔ ذرائع کے مطابق جلد ایک ویڈیو رپورٹ بھی جاری کی جائے گی جس میں متاثرین اپنی کہانی خود بیان کریں گے تاکہ عوام کو اس نیٹ ورک کے طریقہ کار سے آگاہ کیا جا سکے۔
عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ ایسے کسی بھی ادارے یا کمپنی پر اندھا اعتماد نہ کریں جو سرکاری محکموں کے نام پر نوکری کا لالچ دے۔ کسی بھی پیشکش کو قبول کرنے سے پہلے متعلقہ ادارے سے براہ راست تصدیق ضرور کریں۔
حکام بالا سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اسلام آباد اور پنجاب بھر میں پھیلے اس مبینہ نیٹ ورک کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی کی جائے تاکہ مزید شہریوں کو اس دھوکہ دہی سے بچایا جا سکے۔