Blog Post

Countrymedia Service > News > Articles > خلا میں چین اور یورپ کی مشترکہ آنکھ

خلا میں چین اور یورپ کی مشترکہ آنکھ

تحریر: محمد رضوان عارف

خلا کی وسعتوں میں کبھی کبھار کوئی ایسا منصوبہ سامنے آتا ہے جو دو مختلف دنیاؤں کو ایک مشترکہ مقصد کے لیے جوڑ دیتا ہے۔ چین اور یورپ کے مشترکہ تعاون سے بنایا گیا سیٹلائٹ "سولر ونڈ میگنیٹوسفیئر آئنو سفیئر لنک ایکسپلورر”، جسے مختصراً سمائل کہا جاتا ہے، اب باقاعدہ سائنسی آپریشنز میں داخل ہو چکا ہے اور اس نے اپنی پہلی سائنسی تصاویر اور ڈیٹا بھی جاری کر دیا ہے۔ان تصاویر میں سب سے دلچسپ چیز قطبی روشنیوں یعنی شمالی چمک کی پہلی مسلسل پینورامک تصویر ہے، جو طویل عرصے تک ان روشنیوں کی باریک ساخت کو ریکارڈ کرتی ہے۔ ایک اور تصویر ایک ایسے ستارے کی باقیات دکھاتی ہے جو تقریباً ایک لاکھ ساٹھ ہزار نوری سال دور پھٹ چکا تھا اور آج بھی روشن ہے۔ اس کے علاوہ سیٹلائٹ نے زمین کے بہت بلند مدار میں مقناطیسی میدانوں اور آئنز کی پہلی ہائی ریزولوشن پیمائش بھی جمع کی ہے۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ ابتدائی نتائج بہت امید افزا ہیں۔ یہ ڈیٹا محققین کو یہ سمجھنے میں مدد دے گا کہ سورج کی سرگرمیاں زمین کے خلائی ماحول کو کس طرح متاثر کرتی ہیں۔سمائل کو انیس مئی کو فرانسیسی گیانا سے خلا میں بھیجا گیا تھا۔ تقریباً ایک ماہ تک مداری ایڈجسٹمنٹ کے مراحل سے گزرنے کے بعد یہ بیس جون کو اپنے مطلوبہ کام کے مدار تک پہنچ گیا۔ تمام آلات کو آن کیا گیا اور وہ معمول کے مطابق کام کرنے لگے۔ اس کے بعد کیلیبریشن مکمل کی گئی اور سمائل نے قابلِ استعمال ڈیٹا جمع کرنا شروع کر دیا۔سمائل مشن دراصل چین اور یورپ کے درمیان اپنی نوعیت کا پہلا ایسا مشن ہے جو مکمل طور پر مشن کی سطح پر، ہمہ جہت اور گہرائی کے ساتھ مشترکہ خلائی سائنسی تحقیق پر مبنی ہے۔ اس کا مقصد شمسی ہوا اور زمین کے مقناطیسی کرہ کے درمیان تعامل کے اسرار کو سمجھنا ہے۔
یہ تمام تصاویر اور ڈیٹا سیٹلائٹ کے چار سائنسی آلات کے ذریعے اکٹھے کیے گئے۔ سمائل دنیا کا پہلا ایسا خلائی سافٹ ایکس رے امیجر (ایس ایکس آئی) ساتھ لے کر گیا ہے جو مقناطیسی کرہ کی اس حد کو تصویری شکل دے سکتا ہے جو پہلے "ناقابلِ دید” سمجھی جاتی تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ اس میں الٹرا وائلٹ اورورا امیجر، لائٹ آئن اینالائزر اور ایک میگنیٹومیٹر بھی نصب ہے۔یہ تمام آلات مل کر مقناطیسی کرہ میں ہونے والی تبدیلیوں کی عالمی سطح پر بیک وقت تصویر کشی کرتے ہیں، جبکہ سیٹلائٹ پر ہی شمسی ہوا کی براہ راست پیمائش بھی ممکن بناتے ہیں۔ یوں سائنسدانوں کے ہاتھ میں مقناطیسی طوفانوں اور سب سٹورمز جیسے خلائی موسمی واقعات کا مطالعہ کرنے کے لیے ایک ایسا ذریعہ آ گیا ہے جو پہلے کبھی دستیاب نہیں تھا۔اس پورے منصوبے کی بنیاد 2015 میں چینی اکیڈمی آف سائنسز اور یورپی خلائی ایجنسی کی جانب سے شروع کی گئی ایک مشترکہ کوشش پر رکھی گئی تھی، جس کے تحت سمائل منصوبے نے برابری، باہمی فائدے اور ایک دوسرے کی تکمیل پر مبنی تعاون کا ایک مؤثر طریقہ کار قائم کیا۔اس منصوبے میں چین مکمل طور پر سیٹلائٹ پلیٹ فارم کی تیاری، ٹیلی میٹری اور کنٹرول، زمینی معاونت اور سائنسی ایپلیکیشن سسٹمز کی تعمیر کا ذمہ دار رہا، اور اس نے الٹرا وائلٹ اورورا امیجر، لائٹ آئن اینالائزر اور میگنیٹومیٹر جیسے پے لوڈز کی تیاری کی قیادت بھی کی۔ دوسری طرف یورپی فریق پے لوڈ ماڈیول اور ایس ایکس آئی کی تیاری کا ذمہ دار رہا، جبکہ اس نے لانچ وہیکل، لانچ سائٹ اور فعال مرحلے کی ٹیلی میٹری و کنٹرول معاونت بھی فراہم کی۔یوں دیکھا جائے تو سمائل سیٹلائٹ صرف ایک سائنسی آلہ نہیں بلکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جب دو مختلف خطوں کے سائنسدان مل کر کام کریں تو وہ خلا کے ایسے رازوں تک بھی پہنچ سکتے ہیں جو اکیلے سمجھنا شاید ممکن ہی نہ ہوتا۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے