Blog Post

Countrymedia Service > News > Articles > مصنوعی ذہانت کی لہر نے عالمی معیشت کو کیسے سہارا دیا؟

مصنوعی ذہانت کی لہر نے عالمی معیشت کو کیسے سہارا دیا؟

تحریر: محمد رضوان عارف
عالمی معیشت ان دنوں ایک عجیب سی کشمکش سے گزر رہی ہے۔ ایک طرف مشرقِ وسطیٰ کی جنگ نے کئی ممالک کی معیشتوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے، تو دوسری طرف مصنوعی ذہانت میں ہونے والی بھاری سرمایہ کاری نے کئی معیشتوں کو سہارا دے کر نقصان کا کافی حد تک ازالہ کر دیا ہے۔ انہی دو متضاد قوتوں کے درمیان توازن قائم رکھتے ہوئے عالمی مالیاتی فنڈ نے اپنی 2026 کی عالمی ترقی کی پیشگوئی کو 3.1 فیصد تک بڑھا دیا ہے، جو جولائی کی پیشگوئی سے 0.1 فیصد پوائنٹ زیادہ ہے۔آئی ایم ایف کی تازہ ورلڈ اکنامک آؤٹ لک رپورٹ کے مطابق عالمی ترقی کی رفتار 2025 کے 3.5 فیصد سے کم ہو کر 2026 میں 3.1 فیصد تک آ جائے گی، تاہم 2027 میں یہ دوبارہ بڑھ کر 3.4 فیصد تک پہنچ جائے گی۔ یہ 2027 کا ہدف جولائی کی پیشگوئی جیسا ہی ہے، البتہ اپریل کی پیشگوئی سے 0.2 فیصد پوائنٹ زیادہ ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عالمی ترقی اب چند ممالک کے ہاتھ میں مرتکز ہوتی جا رہی ہے۔ صرف 32 معیشتیں اب عالمی ترقی کا 95 فیصد حصہ رکھتی ہیں، جبکہ اپریل میں یہ تعداد 54 تھی۔ تقریباً 47 فیصد ممالک کی ترقی کی پیشگوئیوں میں کمی کی گئی ہے۔آئی ایم ایف کے مطابق دنیا کی معیشت نہ تو محض سست پڑ رہی ہے اور نہ ہی تیز رفتار ہو رہی ہے، بلکہ ترقی کی تقسیم اب اس بنیاد پر ہو رہی ہے کہ کون سا ملک جنگ سے پیدا ہونے والے توانائی کے جھٹکے سے کتنا متاثر ہوا اور مصنوعی ذہانت سے جڑی طلب سے کتنا فائدہ اٹھا سکا۔ وہ ممالک جنہیں توانائی کے بحران کا کم سامنا رہا اور جو اے آئی ہارڈویئر سپلائی چین سے گہرا تعلق رکھتے ہیں، بہترین کارکردگی دکھا رہے ہیں۔ اس کے برعکس وہ ممالک جو توانائی درآمد کرتے ہیں اور ٹیکنالوجی کے اس نئے دور سے کوئی تعلق نہیں رکھتے، بشمول کئی کم آمدنی والے ممالک، درآمدی بلوں میں اضافے، کمزور کرنسی اور حقیقی آمدنی میں کمی جیسے مشکل ترین مجموعے کا سامنا کر رہے ہیں۔آئی ایم ایف کا بنیادی تخمینہ یہ ہے کہ آبنائے ہرمز مارچ 2027 میں دوبارہ کھل جائے گی اور اکتوبر 2027 تک حالات بڑی حد تک جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس آ جائیں گے۔ جنگ سے پہلے یہ آبنائے دنیا بھر کی سمندری تیل تجارت کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ اپنے اندر سمیٹے ہوئے تھی۔آئی ایم ایف کا اندازہ ہے کہ اگر اس آبنائے کو مکمل بند کر دیا جاتا اور متبادل سپلائی کا کوئی بندوبست نہ ہوتا تو عالمی ترقی میں 0.9 فیصد پوائنٹ کی کمی آ سکتی تھی۔ تاہم خلیجی پیداوار کا متبادل راستوں سے بھیجا جانا، دیگر مقامات پر پیداوار بڑھانا، ذخائر کا استعمال اور عالمی معیشت میں تیل پر انحصار کی شرح کم ہونا، ان سب عوامل نے مل کر اصل نقصان کو تقریباً 0.3 فیصد پوائنٹ تک محدود کر دیا۔

سعودی عرب کی 2026 کی پیشگوئی میں جولائی کے مقابلے میں 5 فیصد پوائنٹ کی بڑی کمی کی گئی ہے، اور اب اس کی معیشت میں 3.3 فیصد سکڑاؤ متوقع ہے۔ اسی دوران بحرین، عراق، کویت اور قطر، جو توانائی کی پیداوار اور ترسیل میں رکاوٹوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے اجناس پیدا کرنے والے ممالک ہیں، رواں سال دو ہندسوں میں سکڑاؤ کا سامنا کر سکتے ہیں۔آئی ایم ایف نے خبردار کیا ہے کہ تیل کے ذخائر اس سطح تک گھٹتے جا رہے ہیں جہاں قیمتوں میں اچانک اور تیز اضافے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ تیل کی اوسط قیمت 2026 میں 95.74 امریکی ڈالر فی بیرل رہنے کا تخمینہ ہے، جو 2025 کے مقابلے میں تقریباً 41 فیصد زیادہ ہے، جبکہ 2027 میں یہ قیمت 87.39 ڈالر رہنے کی توقع ہے۔عالمی مہنگائی کی شرح بھی بڑھنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ 2025 کے 4.1 فیصد سے بڑھ کر 2026 میں یہ 4.7 فیصد تک پہنچ جائے گی، اس کے بعد 2027 میں دوبارہ کم ہو کر 4.1 فیصد پر آ جائے گی۔ اپریل کی پیشگوئیوں کے مقابلے میں فنڈ نے 2026 کے لیے مہنگائی کا تخمینہ 0.3 فیصد پوائنٹ اور 2027 کے لیے 0.4 فیصد پوائنٹ بڑھا دیا ہے۔بنیادی مہنگائی جاپان اور برطانیہ میں 2027 کے اختتام تک اور یورو زون و امریکہ میں 2028 کے وسط تک بھی 2 فیصد کی سطح پر واپس آنے کی امید نہیں۔بڑی معیشتوں کی بات کریں تو امریکہ کی ترقی کی شرح 2026 اور 2027 دونوں برسوں میں 2.3 فیصد رہنے کا امکان ہے، جسے صارفین کے اخراجات، مالیاتی پالیسی اور ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری سے تقویت مل رہی ہے۔ یورو زون کی ترقی رواں سال 1.1 فیصد اور اگلے سال 1.2 فیصد رہنے کی پیشگوئی کی گئی ہے، جو بلند توانائی قیمتوں اور کمزور صارفی اعتماد کے مسلسل دباؤ کی عکاسی کرتی ہے۔بھارت کی ترقی کی شرح دونوں برسوں میں 7.0 فیصد رہنے کا امکان ہے۔ جاپان کے لیے یہ شرح 0.7 فیصد جبکہ برطانیہ کے لیے 2026 میں 1.3 فیصد رہنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
چین اس عالمی تصویر میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے، کیونکہ وہ مصنوعی ذہانت کی اسی ہارڈویئر سپلائی چین کا ایک اہم ستون ہے جسے آئی ایم ایف نے ترقی کی رفتار بڑھانے والا بڑا عنصر قرار دیا ہے۔ چینی ٹیکنالوجی کمپنیاں چپس، ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت پر مبنی مصنوعات میں مسلسل بھاری سرمایہ کاری کر رہی ہیں، جس سے نہ صرف چین کی اپنی معیشت کو تقویت مل رہی ہے بلکہ عالمی اے آئی سپلائی چین بھی مضبوط ہو رہی ہے۔ ایسے ماحول میں جہاں توانائی کے بحران نے کئی ممالک کی معیشتوں کو کمزور کیا ہے، چین کی اے آئی میں بڑھتی ہوئی صلاحیت اسے ان چند ممالک کی صف میں لا کھڑا کرتی ہے جو موجودہ عالمی چیلنجز کے باوجود ترقی کی رفتار برقرار رکھنے میں کامیاب نظر آتے ہیں۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے