Blog Post

Countrymedia Service > News > Articles > چین کا تعلیمی انقلاب: 27 کروڑ افراد اعلیٰ تعلیم یافتہ، 2035 تک عالمی قیادت کا ہدف

چین کا تعلیمی انقلاب: 27 کروڑ افراد اعلیٰ تعلیم یافتہ، 2035 تک عالمی قیادت کا ہدف

تحریر: محمد رضوان عارف

چین نے معیاری تعلیم کے فروغ اور اعلیٰ تعلیم تک رسائی بڑھانے میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ چین کی وزارتِ تعلیم کے نائب وزیر وانگ گوانگ یان کے مطابق، ملک میں 27 کروڑ افراد اعلیٰ تعلیم حاصل کر چکے ہیں۔ یہ اعلان چین کے پندرہویں پانچ سالہ منصوبے (2026 تا 2030) کے حوالے سے منعقدہ پریس کانفرنس میں کیا گیا۔

چین میں پری اسکول تعلیم میں داخلے کی شرح 92.9 فیصد، لازمی تعلیم میں بچوں کے برقرار رہنے کی شرح 96.1 فیصد، جبکہ ہائیر سیکنڈری تعلیم میں داخلے کی شرح 92 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ اسکولوں میں جسمانی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے بھی اقدامات کیے گئے ہیں۔

اعلیٰ تعلیم اور سائنسی تحقیق میں یونیورسٹیوں کا کردار مضبوط ہوا ہے۔ 2025 کے قومی سائنسی و تکنیکی ایوارڈز کے عمومی منصوبوں میں تین چوتھائی سے زیادہ منصوبوں کی قیادت اعلیٰ تعلیمی اداروں نے کی، جبکہ ووکیشنل تعلیم نے جدید صنعتوں کے لیے 70 فیصد سے زائد نئے اعلیٰ ہنرمند افراد تیار کیے۔

چین کی وزارتِ تعلیم کے مطابق، ڈبل فرسٹ کلاس انیشی ایٹو کے تحت منتخب یونیورسٹیاں 2027 سے 2030 کے دوران انڈرگریجویٹ داخلوں میں 77 ہزار نئی نشستوں کا اضافہ کریں گی۔ مصنوعی ذہانت، انٹیگریٹڈ سرکٹس، بائیو میڈیسن اور نئی توانائی جیسے جدید شعبوں میں ماہرین کی تیاری پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

چین بنیادی تعلیم میں مساوی مواقع فراہم کرنے، دیہی اور خصوصی ضروریات رکھنے والے بچوں کی تعلیمی سہولتیں بہتر بنانے، اور اسمارٹ ایجوکیشن پلیٹ فارم کے ذریعے ڈیجیٹل تعلیم کو فروغ دینے کے اقدامات بھی کر رہا ہے۔

چین نے 2035 تک خود کو ایک سرکردہ تعلیمی ملک بنانے کا ہدف مقرر کیا ہے، جبکہ 2030 تک معیاری تعلیمی نظام کی تعمیر کو بنیادی طور پر مکمل کرنے کا منصوبہ ہے۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے