راولپنڈی: پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) اور پنجاب پولیس نے جعلی صحافیوں، غیر رجسٹرڈ میڈیا پلیٹ فارمز، ڈمی اخبارات اور جعلی پریس کارڈز کے ذریعے سرگرم عناصر کے خلاف بڑے پیمانے پر مشترکہ کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا ہے۔ ابتدائی کارروائیوں کے دوران مختلف اضلاع سے متعدد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جبکہ حکام کے مطابق مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔
ذرائع کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کافی عرصے سے ایسی شکایات موصول ہو رہی تھیں جن میں بعض افراد خود کو صحافی ظاہر کرکے سرکاری اداروں، کاروباری شخصیات اور عام شہریوں کو بلیک میل کرنے، دھوکہ دہی کرنے اور غیر قانونی فوائد حاصل کرنے میں ملوث تھے۔ ان اطلاعات کی روشنی میں پیمرا اور پنجاب پولیس نے مشترکہ حکمت عملی مرتب کرتے ہوئے کارروائیوں کا آغاز کیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ صحافت ایک ذمہ دار اور باوقار پیشہ ہے، تاہم بعض عناصر نے جعلی پریس کارڈز، غیر رجسٹرڈ ویب چینلز، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور نام نہاد اخبارات کی آڑ میں اس پیشے کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ ایسے افراد کے خلاف شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے مقدمات درج کیے جا رہے ہیں۔
سرکاری ذرائع کے مطابق کریک ڈاؤن کے دوران ان افراد اور اداروں کا ریکارڈ بھی جانچا جا رہا ہے جو خود کو میڈیا ہاؤس یا نیوز پلیٹ فارم ظاہر کرتے ہیں لیکن متعلقہ قوانین اور ضوابط کے تحت رجسٹریشن یا لائسنس کی شرائط پوری نہیں کرتے۔ تحقیقات کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے مختلف اضلاع میں مشتبہ سرگرمیوں کی نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
پیمرا حکام نے واضح کیا ہے کہ میڈیا قوانین کی خلاف ورزی، غیر مجاز نشریاتی سرگرمیوں اور جعلی صحافتی شناخت کے استعمال کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کے مرتکب افراد اور اداروں کو جرمانوں، مقدمات اور دیگر قانونی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
پنجاب پولیس کے مطابق گرفتار کیے گئے افراد سے تفتیش جاری ہے جبکہ ان کے ممکنہ سہولت کاروں اور نیٹ ورک سے متعلق معلومات بھی حاصل کی جا رہی ہیں۔ مزید شواہد سامنے آنے کی صورت میں کارروائی کا دائرہ مزید بڑھایا جائے گا۔
حکام نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ صحافت کے نام پر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی تاکہ پیشہ ور صحافت کے وقار کا تحفظ اور عوام کا اعتماد بحال رکھا جا سکے۔