تحریر: محمد رضوان عارف
چین میں ان دنوں مصنوعی ذہانت کی صنعت ایک ایسی رفتار سے آگے بڑھ رہی ہے کہ نوجوانوں کے لیے روزگار کے بالکل نئے دروازے کھل رہے ہیں۔ جنوبی چین کے شہر شینزین میں مصنوعی ذہانت کی صنعت کے لیے منعقدہ ایک جاب فیئر میں یہ منظر واضح طور پر دیکھا جا سکتا تھا، جہاں اے آئی الگورتھم انجینئر اور اے آئی پروڈکٹ مینیجر جیسی نئی نوکریاں نوجوان گریجویٹس کو اپنی طرف کھینچ رہی تھیں۔اس جاب فیئر میں اسی سال مصنوعی ذہانت میں ڈگری مکمل کرنے والے ایک نوجوان نے بتایا کہ وہ الگورتھم انجینئر یا ایجنٹک اے آئی انجینئر جیسی پوزیشنز تلاش کر رہا ہے، کیونکہ اس وقت یہ دونوں شعبے بہت زیادہ مانگ میں ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اب کمپنیاں صرف ایک ہنر رکھنے والے امیدواروں کو نہیں بلکہ ایسے لوگوں کو ترجیح دے رہی ہیں جو ایک ساتھ کئی مہارتیں رکھتے ہوں، مثلاً وہ لوگ جو مصنوعی ذہانت کے ساتھ ساتھ آٹو انڈسٹری کی سمجھ بھی رکھتے ہوں۔ گزشتہ سال کمپنیاں ایسے لوگوں کو ترجیح دیتی تھیں جو خود ماڈلز کو بہتر بنا سکیں، لیکن اس سال توجہ ان افراد پر مرکوز ہے جو مصنوعی ذہانت کو حقیقی صنعتی استعمال میں لا سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ریکروٹمنٹ پلیٹ فارم کے مطابق، رواں سال کی پہلی ششماہی میں ایجنٹک اے آئی انجینئرز کی طلب میں پچھلے سال کے مقابلے میں 244 فیصد اضافہ ہوا ہے، جو اپنے آپ میں ایک حیران کن اعداد و شمار ہے۔
نوکریوں کی اس دوڑ کے ساتھ ساتھ مصنوعی ذہانت اب سرمایہ کاری اور عالمی تجارت کا بھی مرکزی موضوع بنتی جا رہی ہے۔ شیامن میں منعقدہ چائنا انٹرنیشنل فیئر فار انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ میں اس بار سب سے زیادہ توجہ مصنوعی ذہانت نے حاصل کی۔ نمائش میں شریک کمپنیاں ایکسٹینڈڈ رئیلٹی سے لے کر برین کمپیوٹر انٹرفیس تک اپنی جدید ٹیکنالوجی پیش کر رہی تھیں، اور ساتھ ہی دنیا بھر میں نئے شراکت دار، سرمایہ کاری اور مارکیٹس تلاش کر رہی تھیں۔چائنیز اکیڈمی آف سوشل سائنسز کی محقق پین یوان نے اس رجحان پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ چین کا بیرون ملک سرمایہ کاری کا ماڈل اب کہیں زیادہ پختہ ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق کمپنیاں پہلے اپنے ملک میں مضبوط مقام بناتی ہیں اور اس کے بعد ہی بیرون ملک اپنی رسائی بڑھاتی ہیں، اور مصنوعی ذہانت اس رجحان کی ایک بہترین مثال ہے۔اسی سلسلے کی ایک زبردست مثال ایک چینی اے آئی اور خودکار ڈرائیونگ کمپنی ہے، جس کی ٹیکنالوجی اب دنیا کی 20 سب سے بڑی بندرگاہوں میں سے 14 میں استعمال ہو رہی ہے۔ اس کمپنی کے ڈائریکٹر اور سی ٹی او سن زو لے نے بتایا کہ برطانیہ کی فیلکس ٹو بندرگاہ پر ان کے سو نئی توانائی والے خودکار بھاری ٹرک یورپ کا سب سے بڑا خودکار تجارتی گاڑیوں کا بیڑہ بناتے ہیں۔ ان کے بقول اس منصوبے کے ذریعے چین کی مصنوعی ذہانت اور نئی توانائی کی ٹیکنالوجیز عالمی سطح پر اسمارٹ لاجسٹکس کی صنعت کو مضبوط بنا رہی ہیں۔ کمپنی کا یہ بھی کہنا ہے کہ چین کی مینوفیکچرنگ سپلائی چین اسے ٹیکنالوجی بیرون ملک لے جانے میں ایک اضافی برتری فراہم کرتی ہے۔
مگر یہ کہانی صرف ایک طرفہ نہیں، اسی نمائش میں ایک عالمی برین کمپیوٹر انٹرفیس کمپنی بھی موجود تھی جو چین کے بڑھتے ہوئے اے آئی ماحولیاتی نظام میں مواقع تلاش کر رہی ہے۔ کمپنی کی صدر چن زنگ رو نے کہا کہ برین کمپیوٹر انٹرفیس، اے آئی وئیرایبل اور نیورو سائنس مصنوعی ذہانت کے سب سے بڑے شعبوں میں سے ایک ہیں۔ ان کے مطابق چین ایک بہت وسیع مارکیٹ ہے اور اس وقت مصنوعی ذہانت کے اس دور میں یہ عالمی تبادلوں کے لیے ایک بہترین وقت ہے۔اس ٹیکنالوجی کے ممکنہ استعمال کا دائرہ کافی وسیع ہے، جو طبی تحقیق سے لے کر ذہن سے کنٹرول ہونے والے آلات، روبوٹکس اور اسمارٹ گھروں تک پھیلا ہوا ہے۔مجموعی طور پر دیکھا جائے تو چینی کمپنیوں کا دنیا بھر میں پھیلنا اور بین الاقوامی اختراع کاروں کا چین میں مواقع تلاش کرنا، دونوں مل کر مصنوعی ذہانت کے اس ابھرتے ہوئے دور میں سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی کے تبادلے اور سرحد پار تعاون کے بالکل نئے راستے کھول رہے ہیں۔