Blog Post

Countrymedia Service > News > Articles > چین کا تاریخی شہر ین آن، ریڈ آرمی کے انقلابی ورثے سے سبز توانائی اور معاشی ترقی کے نئے دور میں داخل

چین کا تاریخی شہر ین آن، ریڈ آرمی کے انقلابی ورثے سے سبز توانائی اور معاشی ترقی کے نئے دور میں داخل

تحریر: محمد رضوان عارف

لانگ مارچ کی 90ویں سالگرہ پر چین میں تاریخی غار جدید مالیاتی مراکز میں تبدیل، شمسی توانائی کے منصوبوں سے دیہی معیشت کو فروغ، پانڈا بانڈز کے اجرا میں بھی ریکارڈ اضافہ

بیجنگ (ویب ڈیسک): چین میں ریڈ آرمی کے تاریخی لانگ مارچ کی 90ویں سالگرہ کے موقع پر شمال مغربی صوبے شانشی کا شہر ین آن انقلابی ورثے، جدید بینکاری اور سبز توانائی کے امتزاج کی ایک منفرد مثال بن کر سامنے آیا ہے۔ ماضی میں ریڈ آرمی کی مالی معاونت کے لیے استعمال ہونے والے تاریخی غار آج جدید مالیاتی خدمات، قابلِ تجدید توانائی اور دیہی ترقی کے نئے سفر کی علامت بن چکے ہیں۔

1934 سے 1936 کے دوران چینی کمیونسٹ پارٹی کی قیادت میں ریڈ آرمی نے کومن تانگ افواج کے محاصرے سے نکلنے کے لیے تقریباً 12 ہزار 500 کلومیٹر طویل تاریخی لانگ مارچ کیا تھا۔ اس سفر نے چین کی انقلابی تاریخ میں اہم کردار ادا کیا اور بعد ازاں عوامی جمہوریہ چین کے قیام کی راہ ہموار کرنے میں مدد دی۔

رپورٹ کے مطابق ین آن میں قائم رورل کمرشل بینک نے اپنی تاریخی شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے جدید بینکاری سہولیات متعارف کرائی ہیں۔ بینک کی شوانگ یونگ ایونیو برانچ کو شمالی شانشی کے روایتی غار نما مکانات کے طرز پر ڈیزائن کیا گیا ہے، جہاں صارفین کی رازداری اور سہولت کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ برانچ میں قائم عجائب گھر بھی خطے کی انقلابی اور مالیاتی تاریخ کو محفوظ کر رہا ہے۔

ین آن میں شمسی توانائی کے منصوبوں سے مقامی آبادی کی آمدنی میں اضافہ

چین کے تاریخی شہر ین آن میں سبز مالیاتی منصوبوں کے تحت غار نما گھروں کی چھتوں پر شمسی پینلز نصب کیے جا رہے ہیں، جن سے مقامی رہائشیوں کو بجلی کے ساتھ اضافی آمدنی کے مواقع بھی حاصل ہو رہے ہیں۔

باؤتا ضلع کے گاؤں شین یاؤ میں 10 غار نما مکانات کی چھتوں پر 300 سے زائد شمسی پینلز نصب کیے گئے ہیں۔ مقامی حکام کے مطابق ہر پینل سے سالانہ تقریباً 40 یوان آمدنی حاصل ہوتی ہے، جبکہ مجموعی سالانہ آمدنی 10 ہزار یوان سے تجاوز کر چکی ہے۔

اس کے علاوہ 37 ہیکٹر سے زائد پہاڑی زمین پر شمسی توانائی کے منصوبے قائم کیے گئے ہیں، جہاں پینلز کے نیچے سبزیاں اور چینی جڑی بوٹیاں بھی کاشت کی جا رہی ہیں۔ اس منصوبے سے صاف توانائی کی پیداوار کے ساتھ کسانوں کی معاشی حالت بہتر بنانے میں بھی مدد مل رہی ہے۔

17 دیہات کو 63 ملین یوان کے قرضے، 65 سولر منصوبوں پر کام جاری

مقامی مالیاتی اداروں کے مطابق مئی 2025 سے اب تک 17 دیہات کی مشترکہ کمیٹیوں کو شمسی توانائی کے منصوبوں کے لیے تقریباً 63 ملین یوان کے قرضے فراہم کیے جا چکے ہیں۔

شہر بھر میں 65 سولر پلس منصوبے زیرِ تکمیل ہیں، جن کی مجموعی پیداواری صلاحیت تقریباً 90 میگاواٹ ہے۔ مزید 288 ملین یوان کے قرضوں کے اجرا کی توقع بھی ظاہر کی گئی ہے۔

ان اقدامات کا مقصد قابلِ تجدید توانائی کو فروغ دینے کے ساتھ دیہی صنعتوں کی ترقی، ماحولیاتی تحفظ اور مقامی آبادی کے لیے روزگار اور آمدنی کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔

چین کی بانڈ مارکیٹ میں بھی نمایاں ترقی، پانڈا بانڈز کے اجرا میں 80 فیصد اضافہ

دوسری جانب چین کی مالیاتی منڈی میں بھی اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ شنگھائی میں منعقدہ ایک سمٹ کے دوران اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک چائنا کی ڈپٹی چیف ایگزیکٹو یانگ جنگ نے بتایا کہ 2026 کی پہلی تین سہ ماہیوں میں پانڈا بانڈز کے اجرا میں 80 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

چینی حکام کے مطابق 2026 کی پہلی ششماہی میں غیرملکی جاری کنندگان کا حصہ پانڈا بانڈ فنڈز میں 54 فیصد تک پہنچ گیا، جبکہ غیرملکی اداروں نے بیرونِ ملک استعمال کے لیے 58.7 ارب یوان جمع کیے۔

رپورٹ کے مطابق پانڈا بانڈز کا مجموعی اجرا 1.3 کھرب یوان سے تجاوز کر چکا ہے، جس میں 26 ممالک اور خطوں کے جاری کنندگان شامل ہیں۔

ماہرین کے مطابق چینی حکومت کی معاون مالیاتی پالیسیاں، یوان میں نسبتاً کم مالیاتی لاگت اور مارکیٹ میں سرمائے کی دستیابی بین الاقوامی اداروں کی دلچسپی میں اضافے کی اہم وجوہات ہیں۔

تاریخی ورثے کے تحفظ کے ساتھ جدید معاشی ترقی کا سفر

ین آن کی مقامی انتظامیہ اور مالیاتی ادارے تاریخی مقامات کو ثقافتی سیاحت، مالیاتی تعلیم اور دیہی صنعتوں سے منسلک کرنے کے لیے مزید اقدامات کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

بینک انتظامیہ کے مطابق مستقبل میں زرعی قرضوں، دیہی کاروباروں اور ثقافتی سیاحت کے شعبوں میں مالی معاونت بڑھائی جائے گی تاکہ انقلابی تاریخ کے تحفظ کے ساتھ مقامی معیشت کو بھی مضبوط بنایا جا سکے۔

چین کے تاریخی شہر ین آن کی یہ تبدیلی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ کس طرح ایک ملک اپنے تاریخی ورثے کو محفوظ رکھتے ہوئے جدید ٹیکنالوجی، صاف توانائی اور مالیاتی اصلاحات کے ذریعے معاشی ترقی کی نئی راہیں تلاش کر سکتا ہے۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے